Saturday, 19 June 2021

عجیب انتشار ہے زمیں سے آسمان تک

عجیب انتشار ہے زمیں سے آسمان تک

غبار ہی غبار ہے زمیں سے آسمان تک

وبائیں قحط زلزلے لپک رہے ہیں پے بہ پے

یہ کس کا اقتدار ہے زمیں سے آسمان تک

بساط خاک بھی تپاں خلا بھی ہے دھواں دھواں

بس اک عذاب نار ہے زمیں سے آسمان تک

گرفت پنجۂ فنا میں خستہ حال و خوں چکاں

حیات مستعار ہے زمیں سے آسمان تک

فغان و اشک و آہ کا جگر گداز سلسلہ

بلطف کردگار ہے زمیں سے آسمان تک

متاع جبر زندگی ہمیں بھی جس نے کی عطا

اسی کا اختیار ہے زمیں سے آسمان تک

فرازِ عرش کے مکیں شکستہ دل ہمیں نہیں

ہر ایک بے قرار ہے زمیں سے آسمان تک


راغب مرادآبادی

No comments:

Post a Comment