دل وہ جس کے آئینے میں عکس آئندہ رہا
تیرہ دامن منزلوں میں بھی درخشندہ رہا
آہ آوارہ کی صورت روح گل پیاسی رہی
پھول خوشبو بن کے شبنم کے لئے زندہ رہا
کون ہم سے چھین سکتا ہے محبت کا مزاج
پتھروں میں رہ کے بھی یہ نقش تابندہ رہا
زندگی سے یوں تو سمجھوتہ کیا سب نے مگر
جس نے جینے کی قسم کھائی وہی زندہ رہا
جانے کیا کیا کہہ گیا اس سے مِرا حسن سکوت
دیر تک وہ میرے چپ رہنے پہ شرمندہ رہا
حادثے تو اور بھی تسنیم سے الجھے مگر
اک تِرا غم تھا جو ہر عالم میں پایندہ رہا
تسنیم فاروقی بھوپالی
No comments:
Post a Comment