دیکھنے والوں کو اندازہ لگا رہتا ہے
میں نہیں ہوتا تو دروازہ لگا رہتا ہے
میرا دشمن کو تعاقب نہیں کرنا پڑتا
میرے پیچھے مِرا خمیازہ لگا رہتا ہے
زرد رنگت کو چھپا لیتا ہے زخموں کا لہو
میرے رخساروں پہ یہ غازہ لگا رہتا ہے
دل وہ بے حرف صدا ہے جسے آرام نہیں
خامشی میں بھی یہ آوازہ لگا رہتا ہے
میں کھڑا سوچتا رہتا ہوں تجھے جتنی دیر
شاخ پر پھول تر و تازہ لگا رہتا ہے
علی شیران
No comments:
Post a Comment