Saturday, 19 June 2021

دیکھنے والوں کو اندازہ لگا رہتا ہے

 دیکھنے والوں کو اندازہ لگا رہتا ہے

میں نہیں ہوتا تو دروازہ لگا رہتا ہے

میرا دشمن کو تعاقب نہیں کرنا پڑتا

میرے پیچھے مِرا خمیازہ لگا رہتا ہے

زرد رنگت کو چھپا لیتا ہے زخموں کا لہو

میرے رخساروں پہ یہ غازہ لگا رہتا ہے

دل وہ بے حرف صدا ہے جسے آرام نہیں

خامشی میں بھی یہ آوازہ لگا رہتا ہے

میں کھڑا سوچتا رہتا ہوں تجھے جتنی دیر

شاخ پر پھول تر و تازہ لگا رہتا ہے


علی شیران

No comments:

Post a Comment