Friday, 21 May 2021

آہ زخمی ہے دل شکستہ ہے

 آہ زخمی ہے دل شکستہ ہے

ہائے آنکھوں سے خوں برستا ہے

ہو گئی ہیں لہو لہو سانسیں

روح کو آ کے کوئی ڈستا ہے

آ گیا ہے تو جا نہیں سکتا

دل کی دنیا میں کوئی بستا ہے

فرق کوئی نہیں ہے دونوں میں

زندگی موت ہی کا رستہ ہے

ساری دنیا میں مہنگا ہے پانی

خوں زمانے میں آج سستا ہے

لاش اپنی لیے بھٹکتا ہوں

جسم ہے روح کو ترستا ہے

ایک دل ہی نہیں ہے اے توقیر

روح زخمی ہے جسم خستہ ہے


توقیر زیدی

No comments:

Post a Comment