Wednesday, 21 April 2021

گھٹنے والے تھے جب عذاب مرے

 گھٹنے والے تھے جب عذاب مِرے

آ گئے یاد مجھ کو خواب مرے

ایک پہلو میں سو رہے ہیں وہ

ایک پہلو میں ہے کتاب مرے

ناپ لیں گے اب اور کتنی بار

کپڑے سی دیجئے جناب مرے

عشق اگر رائیگاں ہُوا تو کیا

آج بچے ہیں کامیاب مرے

ویسے بھی آپشن نہیں تھا کوئی

بن گئے تم ہی انتخاب مرے

میرے گالوں تک آ گیا ہے وہ

چُومتے چُومتے گُلاب مرے


زہرا قرار

زہرہ قرار

No comments:

Post a Comment