اپنی جیسی ہی کسی شکل میں ڈھالیں گے تمہیں
ہم بگڑ جائیں گے اتنا کہ بنا لیں گے تمہیں
جانے کیا کچھ ہو چھُپا تم میں محبت کے سوا
ہم تسلی کے لیے پھر سے کھنگالیں گے تمہیں
ہم نے سوچا ہے کہ اس بار جنُوں کرتے ہوئے
خود کو اس طرح سے کھو دیں گے کہ پا لیں گے تمہیں
مجھ میں پیوست ہو تم یوں کہ زمانے والے
میری مٹی سے مِرے بعد نکالیں گے تمہیں
ابھیشیک شکلا
No comments:
Post a Comment