Wednesday, 21 April 2021

میری جانب نہ دیکھو بے رخی سے

 میری جانب نہ دیکھو بے رخی سے

خطا ہوتی ہے صاحب آدمی سے

گھٹا ساون کی جب برسے گی ساجن

مچل جائے گا دل دیوانگی سے

سُلگ جائیں گے یادوں کے دِیے سب

وہ آ جائیں جو خوابوں میں‌ خوشی سے

خطا میری جو میں نے دل گنوایا

ادا اُس کی جو پایا دل لگی سے

اُٹھیں پلکیں لیے حسرت کے آنسو

مگر ہونے لگیں بوجھل نمی سے

دمکتے سُرخ گالوں پر سیاہ لٹ

کرے ہے جیسے شکوہ زندگی سے

سنو سارا محبت ہے عبادت

نہیں تو دل کا کیا رشتہ کسی سے​


سارا جبیں

No comments:

Post a Comment