رنج سہتے ہیں، غم اُٹھاتے ہیں
پھر بھی ہم مُسکرائے جاتے ہیں
تیرے کُشتوں کی ہے یہی گنگا
اپنے ہی خُون میں نہاتے ہیں
ضبط سے لاکھ کام لے کوئی
عشق کے راز کُھل ہی جاتے ہیں
ہم سا دُشمن نہ ہو کوئی اپنا
دوستی کا فریب کھاتے ہیں
دل 💓 چُرایا نہیں اگر میرا
مجھ سے آنکھیں وہ کیوں چُراتے ہیں
سوزِ اُلفت کے دل نشیں نغمے
ساز دل پر ہی گائے جاتے ہیں
خُوش دلی آتے آتے آتی ہے
رنج و غم جاتے جاتے جاتے ہیں
رشک کی حد ہے یہ کہ ہم ان کو
اپنی نظروں سے بھی چُھپاتے ہیں
منزلِ دوست آ گئی شیدا
پاؤں کیوں لڑکھڑائے جاتے ہیں
شیدا انبالوی
بنارسی داس
No comments:
Post a Comment