Saturday, 6 August 2022

آیات والضحٰی میں فترضٰی تمہی تو ہو

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


آیاتِ والضُحٰی میں فتَرضٰی تمہیؐ تو ہو

بخشش کا عاصیوں پہ در وا تمہی تو ہو

جس نے خدا کے پیکرِ حسن و جمال کو

اپنی کُھلی نِگاہ سے دیکھا، تمہی تو ہو

جس نے خدا سے نعمتِ فردوس کے عوض

ہر اُمتی کی جان کو خریدا، تمہی تو ہو

اُمی لقب ہو،۔ صاحبِ اُم الکتاب ہو

ہے یہ کتاب جس کا قصیدہ تمہی تو ہو

اوجِ کمالِ فن ہو کہ آرائشِ سخن

اس کَج کُلاہِ عِلم کا طُرہ تمہی تو ہو

اقصٰی کی سرزمین فلسطینیوں کا خون

ہے جس کے انتظار میں آقاؐ تمہی تو ہو

لب غیر کے لیے نہ کُھلے جس کے آج تک

مدح سرا ادیب ہے جس کا، تمہی تو ہو


ادیب رائے پوری

No comments:

Post a Comment