Saturday, 6 August 2022

محمد جب سے ہیں دل میں ہمارا دل مدینہ ہے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


 یہ سینہ رشکِ کعبہ ہے، یہ رشکِ طورِ سینا ہے

محمدﷺ جب سے ہیں دل میں، ہمارا دل مدینہ ہے

گلاب اور مشک و عنبر خوب ہیں اپنی جگہ لیکن

محمدﷺ کا پسینہ پھر محمدﷺ کا پسینہ ہے

ڈبو دے موجِ طوفاں ایسا ہرگز ہو نہیں سکتا

میں بیٹھا ہوں جس میں، کملی والے کا سفینہ ہے

شریعت بھی طریقت بھی حقیقت بھی عبادت بھی 

محمدﷺ کا قرینہ اللہ اللہ کیا قرینہ ہے 

جو کم ہوتا نہیں باوجود بخششِ پیہم

 خزینوں میں محمدﷺ کا خزینہ کیا خزینہ ہے 

جسے عشقِ نبیؐ میں جیتے جی آتا ہے مر جانا 

حقیقت میں خدا شاہد ہے جینا اس کا جینا ہے 

پیوں گا میں مجھے گر ساقی کوثر پلائیں گے

مجھے تو جام دستِ ساقئ کوثر سے پینا ہے 

ملے ہیں گوہرِ عشق محمدؐ رحمتِ حق سے 

ہر آنسو دیدۂ پرنم کا پرنم کیا نگینہ ہے 


پرنم الہ آبادی

No comments:

Post a Comment