اشکوں کی دھوم دھام سے پہلے اداس ہے
دل ہے کہ آج شام سے پہلے اداس ہے
ہے زندگی پہ کس کو یہاں اپنی اختیار
ہر شخص اپنے کام سے پہلے اداس ہے
اس حشر کا بتائیے پھر کس کو خوف ہو
آقاﷺ جہاں غلام سے پہلے اداس ہے
ڈرتا ہے مٹ نہ جائے کہیں مر کے نام بھی
فنکار فن کے نام سے پہلے اداس ہے
سیتا کا حسن پھر کسی راون کو بھا گیا
سیتا بھی اپنے رام سے پہلے اداس ہے
ایسے تو بعد میں بھی کوئی سوچتا نہیں
دل جیسے انتقام سے پہلے اداس ہے
کر دے گا محترم اسے رامز کا احترام
وہ بس دعا سلام سے پہلے اداس ہے
رامز ہاشمی
عبدالسلام
No comments:
Post a Comment