Thursday, 3 March 2022

اشکوں کی دھوم دھام سے پہلے اداس ہے

 اشکوں کی دھوم دھام سے پہلے اداس ہے

دل ہے کہ آج شام سے پہلے اداس ہے

ہے زندگی پہ کس کو یہاں اپنی اختیار

ہر شخص اپنے کام سے پہلے اداس ہے

اس حشر کا بتائیے پھر کس کو خوف ہو

آقاﷺ جہاں غلام سے پہلے اداس ہے

ڈرتا ہے مٹ نہ جائے کہیں مر کے نام بھی

فنکار فن کے نام سے پہلے اداس ہے

سیتا کا حسن پھر کسی راون کو بھا گیا

سیتا بھی اپنے رام سے پہلے اداس ہے

ایسے تو بعد میں بھی کوئی سوچتا نہیں

دل جیسے انتقام سے پہلے اداس ہے

کر دے گا محترم اسے رامز کا احترام

وہ بس دعا سلام سے پہلے اداس ہے


رامز ہاشمی

عبدالسلام 

No comments:

Post a Comment