Thursday, 3 March 2022

رات بھر تیری کمی پہلو میں جو سوتی ہے

 رات بھر تیری کمی پہلو میں جو سوتی ہے

نیند ایسے میں مِری پوری بھلا ہوتی ہے

اس کے مرہم کے لگانے کی ادا پہ قرباں

وہ ہرے زخم مِرے آنسوؤں سے دھوتی ہے

جب جڑا تیری انگوٹھی میں تو یہ ہیرا ہوا

ورنہ کیا خاص ہے؟ اک عام سا ہی موتی ہے

اس کو چاہا ہے تو دو باتیں بٹھا لو دل میں

ایک معصوم ہے وہ دوسرا اکلوتی ہے

جس کی تعظیم کرے سارے کا سارا گاؤں

وہ اسی دادا کی اک لاڈلی سی پوتی ہے

زندہ در گور ہوئیں بیٹیاں صدیوں پہلے

ہائے! یہ رسم یہاں اب بھی ادا ہوتی ہے

خوش نہیں وہ بھی بنا تیرے جہاں بھی ہے نشاط

خواب میں بات نہیں کرتی کوئی، روتی ہے


نشاط عبیر

No comments:

Post a Comment