Thursday, 3 February 2022

نہ اتنا پڑھا لکھا ہوں نہ حساب آ رہے ہیں

 نہ اتنا پڑھا لکھا ہوں، نہ حساب آ رہے ہیں

مجھے یاد تیرے حسن پر کچھ باب آ رہے ہیں

یعنی اگلی نسل پڑھے گی تیری آنکھیں، تیرا لہجہ

سنا ہے تیری زیست پر نصاب آ رہے ہیں

تیری اک نظر کی خاطر، بننا، سنورنا، جُھکنا

ہم جاہلوں کو کتنے آداب آ رہے ہیں

میری نیند کا تسلسل تیری یاد توڑتی ہے

مجھے خوشبوؤں کی مانند تیرے خواب آ رہے ہیں

میں نے راستوں میں دیکھا ہجوم تتلیوں کا

مجھے کیا خبر جناب، بے حجاب آ رہے ہیں

اب تجھ سے ملاقات کا امکان لگ رہا ہے

کچھ دن سے میرے خواب میں گلاب آ رہے ہیں

میں تجھ کو دیکھ آیا تو سارے شہر کے لوگ

تیرا حُسن پوچھنے کو بے تاب آ رہے ہیں


اشفاق صائم

No comments:

Post a Comment