نہ اتنا پڑھا لکھا ہوں، نہ حساب آ رہے ہیں
مجھے یاد تیرے حسن پر کچھ باب آ رہے ہیں
یعنی اگلی نسل پڑھے گی تیری آنکھیں، تیرا لہجہ
سنا ہے تیری زیست پر نصاب آ رہے ہیں
تیری اک نظر کی خاطر، بننا، سنورنا، جُھکنا
ہم جاہلوں کو کتنے آداب آ رہے ہیں
میری نیند کا تسلسل تیری یاد توڑتی ہے
مجھے خوشبوؤں کی مانند تیرے خواب آ رہے ہیں
میں نے راستوں میں دیکھا ہجوم تتلیوں کا
مجھے کیا خبر جناب، بے حجاب آ رہے ہیں
اب تجھ سے ملاقات کا امکان لگ رہا ہے
کچھ دن سے میرے خواب میں گلاب آ رہے ہیں
میں تجھ کو دیکھ آیا تو سارے شہر کے لوگ
تیرا حُسن پوچھنے کو بے تاب آ رہے ہیں
اشفاق صائم
No comments:
Post a Comment