Friday, 9 April 2021

کس کا بھید کہاں کی قسمت پگلے کس جنجال میں ہے

 کس کا بھید کہاں کی قسمت پگلے کس جنجال میں ہے

بازی ہے اک سادہ کاغذ سارا کرتب چال میں ہے

ایک رہیں یا دو ہو جائیں رسوائی ہر حال میں ہے

جیون روپ کی ساری شوبھا جیون کے جنجال میں ہے

تجھ سے بچھڑ کر تجھ سے مل کر دونوں موسم دیکھ لیے

بات جہاں تھی اب بھی وہیں ہے فرق ذرا سا حال میں ہے

آخر اوپری ہمدردی کو رنگ تو اک دن لانا تھا

بات تھی پہلے چند گھروں تک اب دنیا بھونچال میں ہے

تم اپنی آنکھوں کی لالی پھولوں میں تقسیم کرو

میرے دل کا حال نہ پوچھو رہنے دو جس حال میں ہے

جیون بھیدن کی چِنتا چھوڑو آؤ کچھ اس پر بات کریں

ہم دھرتی کے پھندے میں ہیں دھرتی کس کے جال میں ہے

انجمؔ پیار جسے کہتے ہیں اس کے ڈھنگ نیارے ہیں

چپ میں ہے سکھ چین نہ کوئی راحت قیل و قال میں ہے


انجم فوقی بدایونی

No comments:

Post a Comment