نہ کچھ عالم سمجھتے ہیں نہ کچھ جاہل سمجھتے ہیں
محبت کی حقیقت کو بس اہلِ دل سمجھتے ہیں
نشانِ منزلِ مقصود پا کر بھی نہ جو ٹھہرے
اسی رہرو کو ہم آسودۂ منزل سمجھتے ہیں
تِرے صحرا نوردوں کا مذاقِ جستجو توبہ
غبارِ راہ کو یہ پردۂ محمل سمجھتے ہیں
تمہیں سے ہے یہ نورِ شمع اور یہ سوزِ پروانہ
تمہیں کو اہلِ محفل رونقِ محفل سمجھتے ہیں
یہاں تو قابلِ افسوس ہیں دشواریاں ان کی
تمہاری راہ میں مشکل کو جو مشکل سمجھتے ہیں
انہیں کو تیرے تیرِ نیم کش کا لطف آتا ہے
نہ سینے کو جو سینہ اور نہ دل کو دل سمجھتے ہیں
گُلِ مقصود سے پھر کیوں اسے وہ بھر نہیں دیتے
مِرے دامن کو جب وہ کاسۂ سائل سمجھتے ہیں
کوئی سمجھے نہ سمجھے اس حقیقت کو مگر نجمی
ہم اپنے دردِ دل کو عشق کا حاصل سمجھتے ہیں
امجد نجمی
No comments:
Post a Comment