Monday, 12 September 2022

اس سے پہلے کہ غم عشق فغاں تک پہنچے

 اس سے پہلے کہ غم عشق فُغاں تک پہنچے

تم یہ موقع ہی نہ دو بات یہاں تک پہنچے

تا بہ دامانِ جنوں عقل نگہبان رہی

پھر مجھے ہوش نہیں ہاتھ کہاں تک پہنچے

لے غمِ عشق! ہمی خاک ہوئے جاتے ہیں

یہ تو کہنے کو نہ ہو گا؛ کہ فُغاں تک پہنچے

ایسے ماحول میں فریاد بھی لا حاصل ہے

ضبط کرنے سے جہاں بات فُغاں تک پہنچے


انجم فوقی بدایونی

No comments:

Post a Comment