Monday, 12 September 2022

پتھروں میں دل کے جیسی فیل ہو ممکن نہیں

 پتھروں میں دل کے جیسی فِیل ہو، ممکن نہیں

ہر جگہ پر پیار کی ترسِیل ہو، ممکن نہیں

اس کے دل میں پیار ہو اور میرے دل میں نفرتیں

خشک صحراؤں میں کوئی جھیل ہو، ممکن نہیں

غربت و افلاس کا رونا میں روؤں کس لیے

رونے سے قسمت مِری تبدیل ہو، ممکن نہیں

دیکھنے میں حرج کیا ہے دیکھ لیجے شوق سے

گو کہ ایسے خواب کی تکمیل ہو، ممکن نہیں

دیکھ میں تو خود ہوں اپنی جھونپڑی کا حکمراں

شاہ زادی! حکم کی تعمیل ہو، ممکن نہیں

جھوٹ کا کیا ہے یونہی بے موت مارا جائے گا

اور سچے عشق کی تذلیل ہو، ممکن نہیں

لوٹ آیا قافلہ سالار یہ کہتے ہوئے

اس سے آگے کوئی سنگِ میل ہو، ممکن نہیں

اس کی آمد کا کوئی امکاں نہیں باقی رہا

اور اس کی یاد کی تعطیل ہو، ممکن نہیں

آخری دم تک وہ میرا ہجر پالے گا عمر

بھول جانے میں اسے تعجیل ہو، ممکن نہیں


عابد عمر

No comments:

Post a Comment