Monday, 14 February 2022

دشت سفر میں اتنی تو معجز نمائی دے

 دشتِ سفر میں اتنی تو معجز نمائی دے

منزل قریب تر مجھ کو دکھائی دے

قوسِ قزح کے رنگ مِری زندگی میں گھول

کہہ دے غمِ حیات سے مجھ کو رہائی دے

اتنا تو ربط چاہیے دونوں کے درمیاں

جب نام لوں تمہارا، تمہیں بھی سنائی دے

تقدیر میں لکھا ہے کہ دستورِ وقت ہے

نیکی کروں میں جس سے پلٹ کر برائی دے

شاید ہے میری آنکھ بھی اس کیمرے کی آنکھ

باطن ہر ایک شخص کا جس میں دکھائی دے

سوئی ہوں رات رات بھر آنکھوں کو کھول کر

منظر کوئی حسین سا شاید دکھائی دے

اب تو جو حرف شعر میں بھر جائے آگ سی

ہونٹوں کو ایسے قوتِ شعلہ نوائی دے


رجب چوہدری

No comments:

Post a Comment