مدتوں بعد جنوں اس کا اتر تو آیا
مدتوں بعد سہی لوٹ کے گھر تو آیا
مدتوں بعد درِ دل پہ ہوئی پھر دستک
مدتوں بعد کوئی لے کے خبر تو آیا
مدتوں بعد تبسم میں چھپایا غم کو
مدتوں بعد مجھے کوئی ہنر تو آیا
مدتوں بعد بہت ٹوٹ کے برسا بادل
مدتوں بعد دعاؤں میں اثر تو آیا
مدتوں بعد گرا دستِ دعا پر آنسو
مدتوں بعد مرے ہاتھ گہر تو آیا
مدتوں بعد جگا دل میں تصور اس کا
مدتوں بعد وہی شوقِ سفر تو آیا
مدتوں بعد حقیقت سے چرائی آنکھیں
مدتوں بعد تخیل کا نگر تو آیا
مدتوں بعد ملا پھر کوئی منصور ہمیں
مدتوں بعد کوئی دار پہ سر تو آیا
مدتوں بعد ہوا پیڑ وہ سر سبز عظیم
مدتوں بعد سہی اس پہ ثمر تو آیا
عظیم انصاری
No comments:
Post a Comment