کیسے ممکن ہے؟، تعلق نہ بچایا جاتا
میں نہ جاتا تو وہاں تک مِرا سایہ جاتا
گھر کی دیوار سے پہلے تو نمی پھوٹتی ہے
پھر مِری آنکھ سے منظر نہیں دیکھا جاتا
تم نے پرکار جماتے ہوئے یہ سوچنا تھا
دائرہ ڈال کے مرکز نہیں بدلا جاتا
جب پرندوں کو جزیرے کی ہوا راس نہ ہو
پھر انہیں کوچ سے ہرگز نہیں روکا جاتا
ڈور ڈھیلی تھی سو اڑتی رہی کچھ دیر پتنگ
اس تناؤ میں تو پَل بھر نہیں ٹھہرا جاتا
طٰہٰ ابراہیم
No comments:
Post a Comment