Monday, 4 January 2021

کاش اک ایسا انقلاب آئے

کاش اک ایسا انقلاب آئے

ان کی آنکھوں میں میرا خواب آئے

کبھی بدلے ہیں ہم نہ بدلیں گے

آئے سو بار، انقلاب آئے

اس طرح دل پہ آئے زخمِ وفا

جس طرح شاخ پر گُلاب آئے

جو اندھیرا ہے سو اندھیرا ہے

لاکھ دن نِکلے آفتاب آئے

حُسنِ بے پردہ کی نمائش پر

دیکھنے والوں کو حِجاب آئے

دل شِکستہ چلے ہیں محفل سے

اب شراب آئے، یا شباب آئے

ان کے کُوچے میں ہم جو پہنچے سحر

شور اُٹھا، خانماں خراب آئے


عبدالجبار سحر​

No comments:

Post a Comment