کاش اک ایسا انقلاب آئے
ان کی آنکھوں میں میرا خواب آئے
کبھی بدلے ہیں ہم نہ بدلیں گے
آئے سو بار، انقلاب آئے
اس طرح دل پہ آئے زخمِ وفا
جس طرح شاخ پر گُلاب آئے
جو اندھیرا ہے سو اندھیرا ہے
لاکھ دن نِکلے آفتاب آئے
حُسنِ بے پردہ کی نمائش پر
دیکھنے والوں کو حِجاب آئے
دل شِکستہ چلے ہیں محفل سے
اب شراب آئے، یا شباب آئے
ان کے کُوچے میں ہم جو پہنچے سحر
شور اُٹھا، خانماں خراب آئے
عبدالجبار سحر
No comments:
Post a Comment