گو قید ناروا ہے، مگر کاٹنی تو ہے
زنجیرِ جسم و جاں میں یہ ہمرشتگی تو ہے
جانے دیا کلاہ نہ خلعت کو ہاتھ سے
اس پر گماں کہ سر میں کہیں سرکشی تو ہے
لوٹا نہیں ہوں کوئے مقاصد سے بے مراد
مال و منال گر نہیں، بے چہرگی تو ہے
کیسے ہوں خوئے خانہ خرابی سے دست کش
لے دے کے اپنے پاس یہی خود سری تو ہے
خود سے مغائرت پہ بھی اے چشمِ کم لحاظ
افسوس ہو نہ ہو، مجھے شرمندگی تو ہے
حسین مجروح
No comments:
Post a Comment