Monday, 4 January 2021

دل کو اب ایسے محبت کی سزا دیتا ہوں

 دل کو اب ایسے محبت کی سزا دیتا ہوں

ایسا کرتا ہوں کہ اب اس کو بھلا دیتا ہوں

پوچھ بیٹھا جو کوئی مجھ سے قیامت کا سبب

 تیرا بس مِل کے بچھڑ جانا بتا دیتا ہوں

پہلے بھڑکاتا ہوں یادوں کی میں آتش دل میں

خود ہی پھر بیٹھ کے میں اس کو ہوا دیتا ہوں

یاد رکھتا ہوں جو ہوتا ہے ضروری کوئی

جو بھُلاتا ہے اسے میں بھی بھُلا دیتا ہوں

روٹھ کر جو بھی چلا جائے مناتا ہی نہیں

اشک بالکل نہ بہاتا، نہ صدا دیتا ہوں

اب تو مجھ کو بھی چلن آ ہی گیا دنیا کا

میں  بھی اب یار! زمانے کو دغا دیتا ہوں

چھیڑ کر سارے تِرے قُرب میں گزرے قصے

ایسا روتا ہوں کہ پھر سب کو رُلا دیتا ہوں

بیٹھنے میں نے دیا شاخ پہ پنچھی نہ کوئی

مار کے کنکر اسے خود ہی میں اڑا دیتا ہوں

جو بھی کہتا ہے کہ کب عشق نے اُجرت مانگی

اس کو فرہاد کا قصہ میں سنا دیتا ہوں

جب کبھی  قیس کوئی دشت تماشا چاہیے

اس کو پھر تیرے میں کُوچے کا پتہ دیتا ہوں

مجھ کو جب بات سیکھاتا ہے یہ بیٹا میرا

ہاتھ اٹھا کر اسے ڈھیروں میں دعا دیتا ہوں

جاننا چاہو محبت میں اجڑنا کیا ہے؟

اپنا گھر بار تجھے آ میں دیکھا دیتا ہوں

سر اٹھانے نہیں دیتا کسی خواہش کو کبھی

آنکھ دریا ہے، میں دریا میں بہا دیتا ہوں

یاد اکثر ہی چلی آتی ہے ہر شام ڈھلے

سہمے بچے کی طرح ساتھ سُلا دیتا ہوں

دربدر خاک ہی چھانے گی اداسی کب تک

آ تجھے تیرے میں ساجد سے ملا دیتا ہوں


عجیب ساجد

No comments:

Post a Comment