چاہت مِری وہ چھوڑ کے آگے چلا گیا
یعنی مجھے جھنجھوڑ کے آگے چلا گیا
گرنے لگے جو آنکھ سے آنسو تو یوں ہوا
آنکھیں مِری وہ پھوڑ کے آگے چلا گیا
میں سُست تھا سو رختِ سفر باندھتا رہا
وہ تیز گام دوڑ کے آگے چلا گیا
اس کی تلاش خوب سے آگے رہی سدا
مجھ کو غموں سے جوڑ کے آگے چلا گیا
دیکھا گیا نہ یار سے جو دردِ دل مِرا
وہ مجھ سے منہ کو موڑ کے آگے چلا گیا
میں نے تو ہاتھ جوڑے تھے رُکنے کے واسطے
حسرت مِری وہ توڑ کے آگے چلا گیا
پیچھا خدا کے واسطے میرا نہ کرنا اب
یہ کہہ کے ہاتھ جوڑ کے آگے چلا گیا
روتا رہا وہ مجھ سے لپٹ کر تمام رات
دامن صبح نچوڑ کے آگے چلا گیا
خوشیاں عجیب شخص تھا مجھ کو تھما گیا
خود وہ غموں کو اوڑھ کے آگے چلا گیا
عجیب ساجد
No comments:
Post a Comment