ادب گلوں کے دم سے اردو ایسی خوشبو بولے ہے
بام پہ جیسے دلہن کوئی دھوپ میں زلفیں کھولے ہے
ر رُخ سے جیسے تاج محل کے جھلمل پردہ ڈھلتا ہو
اور سخن ور پروانہ ہو ،روپ پہ اس کے جلتا ہو
د دنیا بھر میں اردو اپنے نام کی عظمت رکھتی ہے
چاہنے والوں کی آنکھوں میں بن کے نور جھلکتی ہے
و وادی میں کشمیر کے جیسے لگتی ہے مظلوم کبھی
اردو لکھنے والے ہوں جب طبقوں میں تقسیم سبھی
ا اردو دنیا بھر میں اپنی عظمت اور پہچان بھی ہے
اس کو ہم گلزار رکھیں یہ شان ہماری آن بھی ہے
د دل دنیا کو اردو خوش بو سے آؤ مہکائیں ہم
طبقوں کی صحرا سے نکلیں اک گلشن بن جائیں ہم
ب باغ ہمارا اردو ہے گل، باغ کے مالی سوچیں ہم
مغرب میں بچوں سے اپنے گھر میں اردو بولیں ہم
گل بخشالوی
No comments:
Post a Comment