Monday, 4 January 2021

ادب گلوں کے دم سے اردو ایسی خوشبو بولے ہے

 ادب گلوں کے دم سے اردو ایسی خوشبو بولے ہے

بام پہ جیسے دلہن کوئی دھوپ میں زلفیں کھولے ہے

ر رُخ سے جیسے تاج محل کے جھلمل پردہ ڈھلتا ہو

اور سخن ور پروانہ ہو ،روپ پہ اس کے جلتا ہو

د دنیا بھر میں اردو اپنے نام کی عظمت رکھتی ہے

چاہنے والوں کی آنکھوں میں بن کے نور جھلکتی ہے

و وادی میں کشمیر کے جیسے لگتی ہے مظلوم کبھی

اردو لکھنے والے ہوں جب طبقوں میں تقسیم سبھی

ا اردو دنیا بھر میں اپنی عظمت اور پہچان بھی ہے

اس کو ہم گلزار رکھیں یہ شان ہماری آن بھی ہے

د دل دنیا کو اردو خوش بو سے آؤ مہکائیں ہم

طبقوں کی صحرا سے نکلیں اک گلشن بن جائیں ہم

ب باغ ہمارا اردو ہے گل، باغ کے مالی سوچیں ہم

مغرب میں بچوں سے اپنے گھر میں اردو بولیں ہم


گل بخشالوی

No comments:

Post a Comment