Monday, 4 January 2021

وہ شخص جو ابھی میرے دھیان میں آیا

 وہ شخص جو ابھی میرے دھیان میں آیا

دم اس کے آنے سے ہی میری جان میں آیا

کل رات اس کو دیکھ کے میں اپنی گلی کی

مدت کے بعد پھولوں کی دُکان میں آیا

ہجرت کے وقت وہ مُڑ کے دیکھ رہی تھی

دل ذبح کر کے رکھ میں سامان میں آیا

برسوں بعد آئینے میں میں نے اپنا آپ

غور کر کے دیکھا تو پہچان میں آیا

ہم ایک دوسرے کے ساتھ بہت خوش تھے

جب تک نہ کوئی اور درمیان میں آیا

دل اس سے لگ کے نکل گیا تھا حدود سے

اور پھر نہ مڑ کے اپنے یہ مکان میں آیا

جب ذکر چھڑا یہیں کہیں بے وفائی کا

تو خیال اس کا بھی وہم و گمان میں آیا

کسی اور گھر کو آگ لگی جل رہا تھا میں

اک وحشت زدہ شعلہ مِرے دالان میں آیا


فیصل عطا

No comments:

Post a Comment