وہ شخص جو ابھی میرے دھیان میں آیا
دم اس کے آنے سے ہی میری جان میں آیا
کل رات اس کو دیکھ کے میں اپنی گلی کی
مدت کے بعد پھولوں کی دُکان میں آیا
ہجرت کے وقت وہ مُڑ کے دیکھ رہی تھی
دل ذبح کر کے رکھ میں سامان میں آیا
برسوں بعد آئینے میں میں نے اپنا آپ
غور کر کے دیکھا تو پہچان میں آیا
ہم ایک دوسرے کے ساتھ بہت خوش تھے
جب تک نہ کوئی اور درمیان میں آیا
دل اس سے لگ کے نکل گیا تھا حدود سے
اور پھر نہ مڑ کے اپنے یہ مکان میں آیا
جب ذکر چھڑا یہیں کہیں بے وفائی کا
تو خیال اس کا بھی وہم و گمان میں آیا
کسی اور گھر کو آگ لگی جل رہا تھا میں
اک وحشت زدہ شعلہ مِرے دالان میں آیا
فیصل عطا
No comments:
Post a Comment