Friday, 18 February 2022

دنیا میں ہے جو دھوم تو طیبہ نگر کی ہے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


کیا پوچھتے ہو مجھ سے کہ نیت کدھر کی ہے

دنیا میں ہے جو دھوم تو طیبہ نگر کی ہے

روزِ جزا میں پائے یہ شاہِ اُممﷺ کی دید

یہ آرزو ازل سے ہماری نظر کی ہے

رکھتے ہیں آسرا سبھی جانے کی جس جگہ

خواہش ہمارے دل میں اسی پاک در کی ہے

اس رہگزارِ شوق کے ہم بھی ہیں راہرو

جس عاشقی میں آبرو دامانِ تر کی ہے

دنیا میں اس طرح کی نہیں ہے کوئی مثال

وہ شان جو مدینے کی شام و سحر کی ہے

رب سے دعا بھی کیجئے رکھ کر یہی خیال

شاہِ اُممﷺ کے ہاتھ میں کنجی اثر کی ہے

سیدھے کہ وہ جو جاتی ہو طیبہ نگر کی سمت

میری تلاش آج بھی اس رہگزر کی ہے

تقدیر سے وہ دیکھ لے طیبہ نگر عظیم

دل میں اگر کسی کے، تمنا سفر کی ہے


عظیم انصاری

No comments:

Post a Comment