عارفانہ کلام نعتیہ کلام
ہر اک ہو ذکر ذکر مِرے مصطفیٰؐ کے بعد
ہر ابتدا سے پہلے بھی، ہر انتہا کے بعد
مہتاب نکلا انﷺ کا سرِ دشت زیست سے
دشتِ وفا کے بعد کبھی کربلا کے بعد
لب ہیں بھنور میں نامِ محمدﷺ لیے ہوئے
کشتی خدا پہ چھوڑ دی ہر ناخدا کے بعد
آواز دی تھی انﷺ کو پکارا تھا ایک بار
دل میں دھڑک رہے ہیں مسلسل صدا کے بعد
قدموں کی چاپ سن اے زمانے ذرا ٹھہر
مہتاب کیسے نکلے ہیں خونِ وفا کے بعد
عامر یوسف
No comments:
Post a Comment