عارفانہ کلام نعتیہ کلام
درود پڑھ کے جو کہتا ہوں شب بخیر آقاﷺ
خدا کرے نہ کبھی اس عمل سے سیر آقاﷺ
یہ کیا کہ آپﷺ کا پیغام تو محبت ہے
یہ کیا کہ پال لیا اُمتی نے بیر آقا ﷺ
ہم ایک دوسرے کو قتل کرنے لگتے ہیں
کہ غصہ جب بھی دلاتے ہیں ہم کو غیر آقاﷺ
یہ لوگ جان ہتھیلی پہ دھر کے نکلے ہیں
ہو عاشقوں کے جواں حوصلوں کی خیر آقاﷺ
مدینہ دیکھتے بھرتی نہیں ہے آنکھ مِری
کہ کیسے سیر کرے گی عدن کی سیر آقاﷺ
نہیں ہے آپﷺ کی حُرمت سے کوئی بھی آگے
بھلے ہو پھر وہ کلیسا، حرم کہ دَیر آقاﷺ
مسعود ساگر
No comments:
Post a Comment