Thursday, 17 February 2022

بلا کی پیاس اس کی آنکھ میں ہے

 مقتل کی باز دید


بلا کی پیاس اس کی آنکھ میں ہے

حجاز کی سرزمیں پہ اس سال 

اس قدر بارشیں ہوئی ہیں کہ خشک تالاب

خون ناحق سے بھر گئے ہیں

لہو کی پیاس اس کی آنکھ میں ہے

نفس میں بارود جس کی قاتل صدا کا شعلہ

قدم قدم تہنیت کے رستے رواں ہوا تو 

وہ نخل جس کی جڑیں زمینوں کے درد میں تھیں 

جھکا کچھ ایسے کہ جیسے حال رکوع میں ہو

اداس طائر جو شاخ پر تھے

جو گنبدوں کی پناہ میں تھے

جو جالیوں کے طواف میں تھے

ڈرے ہوئے آسمان ہجرت کی ٹہنیوں سے

نشیب میں اس زمین مقتل کو دیکھتے ہیں

جہاں وہ نخل اس طرح گرا ہے کہ 

جیسے حال سجود میں ہو

اک اور تالاب تازہ بارش سے بھر گیا ہے


اختر حسین جعفری

No comments:

Post a Comment