Wednesday, 1 March 2023

میں خود بھی نہیں جانتا انجام مرے دوست

 میں خود بھی نہیں جانتا انجام مِرے دوست 

ہے عشق ، فقط عشق! مِرا کام مرے دوست 

پھر مجھ کو اٹھانے کا بھی احسان نہ کرنا 

اب گرنے لگا ہوں، سو ابھی تھام مرے دوست 

تجھ کو تو فقط ایک خدا کرنا ہے راضی

اپنے لیے مشکل ہے بہرگام مرے دوست

یہ وقت کا پنچھی ہے کہ اڑتے نہیں تھکتا

ہر روز گزر جاتی ہے اک شام مرے دوست

یہ شہر مِرے خوابوں کا مدفن بھی ہے، گھر بھی 

آتا ہے یہیں درد کو آرام مرے دوست 


توقیر رضا

No comments:

Post a Comment