سمتوں کے اعتبار نے دھوکہ دیا نہ ہو
یہ آسماں زمین کے نیچے پڑا نہ ہو
جی لگ رہا ہے آج تِری یاد کے بغیر
یہ بھی کسی رقیب کی ہی بد دعا نہ ہو
طعنے کو سن کے ہنس دیا ہے خوشدلی کے ساتھ
ہو سکتا ہے وہ آدمی دل کا برا نہ ہو
دیکھو تو اس نے عشق بھر کا مول کیا دیا
اک چائے اور چائے میں بھی ذائقہ نہ ہو
ہجرت کے وقت آنکھ مسافر کی یوں لگی
دریا بپھر رہا ہو،کنارے لگا نہ ہو
آنسو کو آستین پہ یوں چھوڑ کر نہ جا
دشمن! خدا کے واسطے ایسے جدا نہ ہو
ممکن ہے ایک شخص جو تیرا جہان ہے
وہ سامنے ہو اور تجھے پہچانتا نہ ہو
عمران جانتے تھے ہم بھی بات کا جواب
پر چپ رہے کہ سامنے بھی دل جلا نہ ہو
عمران فیروز
No comments:
Post a Comment