Friday, 11 February 2022

سمتوں کے اعتبار نے دھوکہ دیا نہ ہو

 سمتوں کے اعتبار نے دھوکہ دیا نہ ہو

یہ آسماں زمین کے نیچے پڑا نہ ہو

جی لگ رہا ہے آج تِری یاد کے بغیر

یہ بھی کسی رقیب کی ہی بد دعا نہ ہو

طعنے کو سن کے ہنس دیا ہے خوشدلی کے ساتھ

ہو سکتا ہے وہ آدمی دل کا برا نہ ہو

دیکھو تو اس نے عشق بھر کا مول کیا دیا

اک چائے اور چائے میں بھی ذائقہ نہ ہو

ہجرت کے وقت آنکھ مسافر کی یوں لگی

دریا بپھر رہا ہو،کنارے لگا نہ ہو

آنسو کو آستین پہ یوں چھوڑ کر نہ جا

دشمن! خدا کے واسطے ایسے جدا نہ ہو

ممکن ہے ایک شخص جو تیرا جہان ہے

وہ سامنے ہو اور تجھے پہچانتا نہ ہو

عمران جانتے تھے ہم بھی بات کا جواب

پر چپ رہے کہ سامنے بھی دل جلا نہ ہو


عمران فیروز

No comments:

Post a Comment