Friday, 11 February 2022

جب اس کی رت یاد آتی ہے رو لیتا ہوں

 یادوں کے ملبے میں دبی ہوئی ایک نظم


یہ دالان تھا

اس دالان میں پھولوں کی اک بیل ہوا کرتی تھی پہلے

اس پر پھول کھلا کرتے تھے

سوکھ گئی تھی

اب وہ سنگ و خشت کے نیچے مٹی میں ہے

جب اس کی رُت یاد آتی ہے

رو لیتا ہوں

پھولوں جیسا ہو لیتا ہوں

اس کھڑکی سے دھوپ آتی تھی

لیکن اب تو

دھوپ یہاں کچھ کم پڑتی ہے

رات گئے شبنم پڑتی ہے

تکیہ گیلا ہو جاتا ہے

اس کمرے میں ہم رہتے ہیں

میں اور میرے غم رہتے ہیں

کونے میں جو الماری ہے

اس میں بے ترتیب کتابیں

یہ جو گرد اٹے کاغذ ہیں

ان میں ادھوری نظمیں، غزلیں

مصرعہ مصرعہ، ریزہ ریزہ خواب پڑے ہیں

خوشبو اور مہتاب پڑے ہیں

ان خوابوں کو لفظوں کے پیراہن دیتے عمر گزاری

جانے کیسی رُت سے ہے خوابوں کا بندھن

سوکھ چکے اس جل سے

سرخابوں کا بندھن

الماری کے ساتھ جو ٹیبل لیمپ پڑا ہے

رات کو جب بتی جاتی ہے

تب مجھ سے باتیں کرتا ہے

یہ جو ایک فریم پڑا ہے

اس تعمیر میں ٹوٹ گیا تھا

اس میں اک تصویر ہوا کرتی تھی شاید

تصویروں کو کب تک رکھا جا سکتا ہے

ایک نئ تعمیر یا اس تعمیر سے آگے

کچھ بھی نہیں تصویر سے آگے

وہ جو سامنے وال کلاک ہے

ایک عرصہ سے اس کی دھڑکن رکی ہوئی ہے

شاید اس نے وقت کو روکنا چاہا تھا

اور بھی کمرے ہیں اس گھر میں

ان کمروں میں گھر والے ہیں

سب مجھ سے اوپر والے ہیں


اشرف یوسفی

No comments:

Post a Comment