Friday, 11 February 2022

واعظ خوش بیاں ایک احسان کر

 واعظ خوش بیاں

ایک احسان کر

اپنے جوشِ خطابت کا رُخ موڑ دے

پھیلتی جا رہی ہے جو نفرت اسے

اپنا موضوع بنا

اپنا جادو دکھا

ایسی نفرت پہ کوئی کڑا وار کر

اس کو مسمار کر

اپنے لہجے سے

آواز کے سحر سے

باہمی بھائی چارے کی بنیاد رکھ

ہر تعصب سے احساس کو پاک کر

کوئی جادو دکھا

پھیلتا جا رہا دھواں ہر طرف

جل رہا ہے چمن

چار سُو آگ ہے

واعظِ خوش بیاں اپنے ماحول کو

اپنے پیارے وطن کی بقا کے لیے

آندھیوں سے بچا

بے اماں زندگی میں کسی طور اب

زندہ رہنے کی کوئی ادا عام کر 

پھر سے درسِ محبت کی تشہیر کر

مل کے رہنے کا کوئی ہنر بخش دے

واعظ خوش بیاں

نغمگی بخش دے


یوسف خالد

No comments:

Post a Comment