پھیلتے ہی جاتے ہیں سلسلے خیالوں کے
بے سبب خموشی میں ان گنت سوالوں کے
لاکھ بھول جاؤ تم شب مثال لوگوں کو
ہیں نشاں مگر وہی صبح کے حوالوں کے
فصلِ گل میں اب اپنا کون منتظر ہو گا
کون دیکھ پائے گا زخم خستہ حالوں کے
اک طرف سمندر تھا، دوسری طرف ساحل
حوصلے مگر دیکھو ڈوب جانے والوں کے
زندگی ہے سر گرداں اور عقل بھی حیراں
بھید جب سے پائے ہیں دشمنوں کی چالوں کے
کارزارِ ہستی میں کب رہے ہیں ہم تنہا
ساتھ ساتھ چلتے ہیں قافلے اجالوں کے
ثبت ہیں حیا اب بھی اس دلِ شکستہ پر
نقش خوش جمالوں کے نام بے مثالوں کے
ثریا حیا
No comments:
Post a Comment