Friday, 11 February 2022

پھیلتے ہی جاتے ہیں سلسلے خیالوں کے

 پھیلتے ہی جاتے ہیں سلسلے خیالوں  کے

بے سبب خموشی میں ان گنت سوالوں کے

لاکھ بھول جاؤ تم شب مثال لوگوں کو

ہیں نشاں مگر وہی صبح کے حوالوں کے

فصلِ گل میں اب اپنا کون منتظر ہو گا

کون دیکھ پائے گا زخم خستہ حالوں کے

اک طرف سمندر تھا، دوسری طرف ساحل

حوصلے مگر دیکھو ڈوب جانے والوں کے

زندگی ہے سر گرداں اور عقل بھی حیراں

بھید جب سے پائے ہیں دشمنوں کی چالوں کے

کارزارِ  ہستی میں کب رہے ہیں ہم تنہا

ساتھ ساتھ چلتے ہیں قافلے اجالوں کے

ثبت ہیں حیا اب بھی اس دلِ شکستہ پر

نقش خوش جمالوں کے نام بے مثالوں کے


ثریا حیا

No comments:

Post a Comment