خود کو پہچانا تو دنیا اجنبی لگنے لگی
ہر تعلق میں تعلق کی کمی لگنے لگی
کیا ضروری تھا کہ تم ملتے رہو اثنائے راہ
اک معمہ سی تمہاری بے رخی لگنے لگی
میرا مستقبل نہ بتلا دیکھ کوئی سن نہ لے
کتنی لرزہ خیز تیری آگہی لگنے لگی
کھو گئے اپنے میں خود کو ڈھونڈنے والے تمام
اب تو عرفان انا بھی گمرہی لگے لگی
خشک اک مدت سے تھا جو میرے آنگن کا درخت
اب کے تم آئے تو پتی پھر ہری لگنے لگی
محمود اقبال کاظم
No comments:
Post a Comment