Tuesday, 20 April 2021

خود کو پہچانا تو دنیا اجنبی لگنے لگی

خود کو پہچانا تو دنیا اجنبی لگنے لگی

ہر تعلق میں تعلق کی کمی لگنے لگی

کیا ضروری تھا کہ تم ملتے رہو اثنائے راہ

اک معمہ سی تمہاری بے رخی لگنے لگی

میرا مستقبل نہ بتلا دیکھ کوئی سن نہ لے

کتنی لرزہ خیز تیری آگہی لگنے لگی

کھو گئے اپنے میں خود کو ڈھونڈنے والے تمام

اب تو عرفان انا بھی گمرہی لگے لگی

خشک اک مدت سے تھا جو میرے آنگن کا درخت

اب کے تم آئے تو پتی پھر ہری لگنے لگی


محمود اقبال کاظم

No comments:

Post a Comment