یعنی باتوں میں آ گیا تُو بھی
آج تو اجنبی لگا تو بھی
وقت کب روکنے سے رکتا ہے
روکنے سے نہیں رکا تو بھی
دوستوں کا بھی ناپسندیده
اور مجھ سے گریز پا تو بھی
میں تجھے دیکھ رہا تھا کب سے
کاش اک بار دیکھتا تو بھی
اس جدائی کے کھیل میں فیصل
حافظہ بھی چلا گیا تو بھی
مرزا فیصل
No comments:
Post a Comment