دل ساجن کی یاد میں کھونے لگتا ہے
تو لڑکی سے کھانا جلنے لگتا ہے
دل کی جب من مانی بڑھنے لگتی ہے
پھرخود سے ہی جھگڑا ہونے لگتا ہے
اپنے آپ سے باتیں اچھی لگتی ہیں
لیکن دل خوابوں سے ڈرنے لگتا ہے
پاگل لڑکی کچھ تو ہوش کے ناخن لے
خود ہی کوئی خود سے کہنے لگتا ہے
کچھ رشتے بے نام سے ہوتے ہیں لیکن
چپکے سے کوئی دل میں بسنے لگتا ہے
عشق بھلا دیتا ہے گھر کا رستہ بھی
دل دنیا کے صدمے سہنے لگتا ہے
ہم نے خوب سمیرا اس کو پرکھا ہے
وہ بھی میرے خواب ہی بننے لگتا ہے
سمیرا یوسف
No comments:
Post a Comment