Sunday, 7 March 2021

وہم کوئی گماں میں تھا ہی نہیں

 وہم کوئی گماں میں تھا ہی نہیں

نقش اپنا نشاں میں تھا ہی نہیں

مجھ سے منسوب ہو گیا کیوں کر

وہ جو میرے بیاں میں تھا ہی نہیں

لوگ کیسے مِرا یقیں کرتے

جھوٹ میرے بیاں میں تھا ہی نہیں

چور آیا گیا بھی خالی ہاتھ

میں تو اپنے مکاں میں تھا ہی نہیں

بس پرانی گھسی پٹی باتیں

رنگ تازہ بیاں میں تھا ہی نہیں

پھیکی پھیکی بہار گزری ہے

رنگ اپنا خزاں میں تھا ہی نہیں

ہم نے سن کر بھی ان سنی کر دی

کچھ تأثر اذاں میں تھا ہی نہیں

میرے سر کے لیے جو ہو موزوں

سنگ وہ آستاں میں تھا ہی نہیں

دیر سے خامشی ہے خیمہ زن

شور کیا کارواں میں تھا ہی نہیں

آ رہا تھا زمین کی جانب 

وسوسہ آسماں میں تھا ہی نہیں


ہمدم کاشمیری

No comments:

Post a Comment