Thursday, 6 October 2016

وہ سامنے جو نگاہیں چرائے جاتے ہیں

وہ سامنے جو نگاہیں چرائے جاتے ہیں
وہ آج کل کے مسیحا بتائے جاتے ہیں
وہی ہو تم کہ جگہ پُتلیوں میں جن کو دی
وہی ہیں ہم کہ نظر سے گِرائے جاتے ہیں 
قصور کس نے کرایا، قصور کس کا ہے
وہ جانتے ہیں تو ہم کیوں ستائے جاتے ہیں
اڑا رہے ہیں شبِ ہجر کا مِری خاکہ
بہانہ یہ ہے کہ گیسو بنائے جاتے ہیں
یہ کیا ادا ہے کہ مجبورِ زندگی کر کے
ستمگری کے بھی احساں جتائے جاتے ہیں
تمام عمر کے سجدے فضول ہیں طالبؔ
کہیں نقوشِ مقدر مٹائے جاتے ہیں

طالب باغپتی

No comments:

Post a Comment