چلے گا نہیں مجھ پہ فقرا تمہارا
ہٹا لو کہ خنجر ہے جھوٹا تمہارا
منائیں تو اب جان دے کر منائیں
قیامت ہے یہ روٹھ جانا تمہارا
بڑے سیدھے سادے بڑے بھولے بھالے
کوئی دیکھے اس وقت چہرا تمہارا
بچا ہے جو ساغر میں کیوں پھینکتے ہو
ہمیں دے دو ہم پی لیں جھوٹا تمہارا
یہ کیا ہے سبب آج چپ چپ ہو پیارے
بتاؤ تو کیوں جی ہے کیسا تمہارا
اٹھانے پڑے خاک سے دل کے ٹکڑے
بڑا پیار تھا،۔ پیار دیکھا تمہارا
خدا کیلئے ہاں نہیں کچھ تو کہہ دو
کہ منہ تک رہی ہے تمنا تمہارا
علاج اس کے بیمار کا تم کرو گے
کہیں دل چلا ہے مسیحا تمہارا
چلا شاؔعرِ زار، تسلیم لیجئے
بھلا ہو بھلا میرے داتا تمہارا
آغا شاعر قزلباش
No comments:
Post a Comment