Thursday, 3 December 2020

چلے گا نہیں مجھ پہ فقرا تمہارا

چلے گا نہیں مجھ پہ فقرا تمہارا 

ہٹا لو کہ خنجر ہے جھوٹا تمہارا 

منائیں تو اب جان دے کر منائیں 

قیامت ہے یہ روٹھ جانا تمہارا 

بڑے سیدھے سادے بڑے بھولے بھالے 

کوئی دیکھے اس وقت چہرا تمہارا 

بچا ہے جو ساغر میں کیوں پھینکتے ہو 

ہمیں دے دو ہم پی لیں جھوٹا تمہارا 

یہ کیا ہے سبب آج چپ چپ ہو پیارے 

بتاؤ تو کیوں جی ہے کیسا تمہارا 

اٹھانے پڑے خاک سے دل کے ٹکڑے 

بڑا پیار تھا،۔ پیار دیکھا تمہارا 

خدا کیلئے ہاں نہیں کچھ تو کہہ دو 

کہ منہ تک رہی ہے تمنا تمہارا 

علاج اس کے بیمار کا تم کرو گے 

کہیں دل چلا ہے مسیحا تمہارا 

چلا شاؔعرِ زار، تسلیم لیجئے 

بھلا ہو بھلا میرے داتا تمہارا 


آغا شاعر قزلباش

No comments:

Post a Comment