عجب صورت حالات ہونے والی ہے
سنا ہے اب کے اسے مات ہونے والی ہے
نہ بچ سکے گا ادھورا مکان بھی اس کا
مجھے خبر ہے کہ برسات ہونے والی ہے
جلاؤ مشعلِ جاں، شمعِ دل کرو روشن
میں تھک کے گرنے ہی والا ہوں اسکے قدموں پر
مِری نفی، مِرا اثبات ہونے والی ہے
گماں کی گرد میں لپٹا ہوا میں تنہا ہوں
جدا کسی سے مِری ذات ہونے والی ہے
ہر ایک زخمِ دل و جاں ہرا ہرا ہے پھر
پھر آج اس سے ملاقات ہونے والی ہے
بچھڑ رہا ہے قدم دو قدم پہ ہر ساتھی
امیرؔ آج کوئی بات ہونے والی ہے
امیر قزلباش
No comments:
Post a Comment