ہر اک ہاتھ میں پتھر دکھائی دیتا ہے
یہ زخم گھر سے نکل کر دکھائی دیتا ہے
سنا ہے اب بھی مِرے ہاتھوں کی لکیروں میں
نجومیوں کو مقدر دکھائی دیتا ہے
اب انکسار بھی شامل ہے وضع میں اس کی
گرا نہ مجھ کو میرے خواب کی بلندی سے
یہاں سے مجھ کو مِرا گھر دکھائی دیتا ہے
جہاں جہاں بھی نہرِ فرات کا امکاں
وہیں یزید کا لشکر دکھائی دیتا ہے
خدا کے شہر میں پھر کوئی سنگسار ہوا
جسے بھی دیکھیۓ پتھر دکھائی دیتا ہے
امیؔر کس کو بتاؤ گے، کون مانے گا
سراب ہے جو سمندر دکھائی دیتا ہے
امیر قزلباش
No comments:
Post a Comment