اب اپنی ہی دہلیز پہ چپ چاپ کھڑا ہوں
صدیوں کا عقیدہ ہوں مگر ٹوٹ چکا ہوں
اک چیخ سنا کرتا ہوں ہر شام کسی کی
ہر صبح یہ لگتا ہے کہ میں قتل ہوا ہوں
نیلا ہے ہر اک رنگ ان آنکھوں میں ابھی تک
اب اپنا کوئی عکس بھی پاؤ گے نہ مجھ میں
امید کا سورج ہوں مگر ڈوب چکا ہوں
ہوتا ہے کوئی عزم شکستہ تو کہیں سے
آتی ہے اک آواز کہ ہاں میں ہی خدا ہوں
امیر قزلباش
No comments:
Post a Comment