Sunday, 11 December 2016

لعل مٹی میں ملاتے کیوں ہو

لعل مٹی میں ملاتے کیوں ہو
ہمنشیں! اشک بہاتے کیوں ہو
ہاں اگر پیار ہے مجھ سے تو کہو
تم مجھے اتنا رُلاتے کیوں ہو
گر مٹانا ہی ضروری ٹھہرا
رائیگاں نقش بناتے کیوں ہو
جانِ جاں! اپنے حسیں خوابوں کی
راکھ دریا میں بہاتے کیوں ہو
کون آیا ہے، کِسے آنا ہے
دِیپ صحرا میں جلاتے کیوں ہو
کیا نیا رنگ بنانا ہے تمہیں
رنگ، رنگوں میں ملاتے کیوں ہو

بقا بلوچ

No comments:

Post a Comment