Sunday, 11 December 2016

کیسا لمحہ آن پڑا ہے

کیسا لمحہ آن پڑا ہے
ہنستا گھر ویران پڑا ہے
بستر پر کچھ پھول پڑے ہیں
آنگن میں گلدان پڑا ہے
کرچی کرچی سپنے سارے
دل میں اک ارمان پڑا ہے
لوگ چلے ہیں صحراؤں کو
اور نگر سنسان پڑا ہے
اک جانب اک نظم کے ٹکڑے
اک جانب عنوان پڑا ہے

بقا بلوچ

No comments:

Post a Comment