جتنے منظر دیکھے ہم نے
دل کے اندر دیکھے ہم نے
اڑتی خاک زمیں پر دیکھی
رنگ فلک پر دیکھے ہم نے
تم نے صرف کنارے دیکھے
اب تک جتنے چہرے دیکھے
تم سے کمتر دیکھے ہم نے
در پر آنکھیں، آنکھ میں پانی
پانی میں گھر دیکھے ہم نے
دل کے سُونے دشت کے اندر
اجڑے منظر دیکھے ہم نے
تم نے دیکھے خواب خوشی کے
غم کے نشتر دیکھے ہم نے
بقا بلوچ
No comments:
Post a Comment