Sunday, 11 December 2016

جتنے منظر دیکھے ہم نے

جتنے منظر دیکھے ہم نے
دل کے اندر دیکھے ہم نے
اڑتی خاک زمیں پر دیکھی
رنگ فلک پر دیکھے ہم نے
تم نے صرف کنارے دیکھے
سات سمندر دیکھے ہم نے
اب تک جتنے چہرے دیکھے
تم سے کمتر دیکھے ہم نے
در پر آنکھیں، آنکھ میں پانی
پانی میں گھر دیکھے ہم نے
دل کے سُونے دشت کے اندر
اجڑے منظر دیکھے ہم نے
تم نے دیکھے خواب خوشی کے
غم کے نشتر دیکھے ہم نے

بقا بلوچ

No comments:

Post a Comment