Sunday, 11 December 2016

اب نہیں درد چھپانے کا قرینہ مجھ میں

اب نہیں درد چھپانے کا قرینا مجھ میں
کیا کروں بس گیا اک شخص انوکھا مجھ میں
اس کی آنکھیں مجھے محصور کئے رکھتی ہیں
وہ جو اک شخص ہے مدت سے صف آرا مجھ میں
اپنی مٹی سے رہی ایسی رفاقت مجھ کو
پھیلتا جاتا ہے اک ریت کا صحرا مجھ میں
میرے چہرے پہ اگر کرب کے آثار نہیں
یہ نہ سمجھو کہ نہیں کوئی تمنا مجھ میں
میں کنارے پہ کھڑا ہوں تو کوئی بات نہیں
بہتا رہتا ہے تیری یاد کا دریا مجھ میں
ڈوب تو جاؤں تِِری مدھ بھری آنکھوں میں مگر
لڑکھڑانے کا نہیں حوصلہ اتنا مجھ میں
جب سے اک شخص نے دیکھا ہے محبت سے بقا
پھیلتا جاتا ہے ہر روز اجالا مجھ میں

بقا بلوچ

No comments:

Post a Comment