اک عمر سے میں بات یہی سوچ رہا ہوں
تم چھوڑ نہ دو ساتھ، یہی سوچ رہا ہوں
ٹوٹا ہے مِرے دل کی طرح تیرا فسوں بھی
اے شہرِ طلسمات! یہی سوچ رہا ہوں
کب روح میں اترے گا تِری روح کا پرتَو
اب تُو بھی لیے پھرتا ہے اک داغِ جدائی
اک جیسے ہیں حالات یہی سوچ رہا ہوں
دن سارا گزارا ہے بقاؔ کوئے بتاں میں
گزرے گی کہاں رات یہی سوچ رہا ہوں
بقا بلوچ
No comments:
Post a Comment