Sunday, 11 December 2016

اک عمر سے میں بات یہی سوچ رہا ہوں

اک عمر سے میں بات یہی سوچ رہا ہوں
تم چھوڑ نہ دو ساتھ، یہی سوچ رہا ہوں
ٹوٹا ہے مِرے دل کی طرح تیرا فسوں بھی
اے شہرِ طلسمات! یہی سوچ رہا ہوں
کب روح میں اترے گا تِری روح کا پرتَو
کب ہو گی ملاقات، یہی سوچ رہا ہوں
اب تُو بھی لیے پھرتا ہے اک داغِ جدائی
اک جیسے ہیں حالات یہی سوچ رہا ہوں
دن سارا گزارا ہے بقاؔ کوئے بتاں میں
گزرے گی کہاں رات یہی سوچ رہا ہوں

بقا بلوچ

No comments:

Post a Comment