محبتوں میں بچھڑنے کا غم تو ہوتا ہے
مگر دلوں سے یہی خوف کم تو ہوتا ہے
بچھڑنے والا کسی موڑ پر بچھڑ جائے
قدم قدم پہ مگر ہم قدم تو ہوتا ہے
بھری خدائی میں جس کا کوئی نہیں ہوتا
خراب ہو کے بھی وہ سر اٹھا کے گزرے گا
قتیلِ عشق میں اتنا بھی دم تو ہوتا ہے
ملے نہ کچھ بھی محبت میں، خونِ دل خاورؔ
نگار رُوئے غزل کو بہم تو ہوتا ہے
خاور احمد
No comments:
Post a Comment